کاروار 29؍جون (ایس او نیوز) سری رام سینا کے لیڈر جینت نائک نے پولیس پر الزام لگایا ہے کہ 28اکتوبر2010کو مرڈیشور میں ہوئے یمونانائک مرڈر کیس میں اس نے اصل قاتلوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے انہیں سزا سے بچانے کا کام کیا ہے، کیونکہ اس قتل کے ملزم وینکٹیش ہری کانت کو ضلع سیشن عدالت نے بے قصور قرار دیتے ہوئے بری کردیا ہے۔
کاروار میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرڈیشور سے تعلق رکھنے والے سری رام سینا لیڈر جینت نائک نے کہا کہ یمونا نائک نامی نوجوان لڑکی کی لاش مرڈیشور کے محمد صادق کے گھر میں دستیاب ہوئی تھی۔ لیکن پولیس نے اس گھر کے مالک سے صحیح طریقے سے تفتیش نہ کرتے ہوئے وینکٹیش ہری کانت کو ملزم بناکر عدالت میں پیش کیا تھا۔ پولیس کا یہ اقدام اب بہت سارے شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔
جینت نائک نے مزید کہا کہ قتل کی واردات ہونے کے چند دن کے اندر ہی سری رام سینا نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے کو تحقیقات کے لئے سی او ڈی کے حوالے کرنے کی مانگ رکھی تھی، مگر نہ سرکار نے اور نہ ہی پولیس محکمے نے اس پر دھیان دیا تھا۔آج عدالت نے وینکٹیش کو بے قصور قرار دیا ہے۔پولیس کی پہلے سے طے شدہ اور سوچی سمجھی تحقیقات کی وجہ سے ایک بے قصور نے 7سال کی سزا کاٹی ہے۔ جینت نائک نے سوال کیا کہ اگر وینکٹیش ہری کانت بے قصور ہے تو پھر مجرم کون ہے؟اس معاملے کی مزید تحقیقات کے لئے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی بات بھی رام سینا لیڈر نے کہی ہے۔
پریس میٹ میں سندیپ نائک، انّپا نائک، پرشانت نائک اور وینکٹیش نائک وغیرہ موجود تھے۔
اس رپورٹ کے تعلق سے پہلے شائع شدہ رپورٹ: